Showing posts with label Urdu Poetry. Show all posts
Showing posts with label Urdu Poetry. Show all posts

Saturday, 14 May 2016

۔۔۔ سیاسی غزل ۔۔۔۔۔ کلام: ذیشان مہدی

Unknown

۔۔۔ سیاسی غزل ۔۔۔۔۔
ساری محنت کی ایسی کی تیسی
اپنی قسمت کی ایسی کی تیسی
دل لگایا ہوا ہے جھوٹوں سے
اس محبت کی ایسی کی تیسی
پانی بھی بند بجلی بھی غائب 
اس حکومت کی ایسی کی تیسی
دور پتھر کا _______لوٹ آیا ہے
شہر الفت کی ایسی کی تیسی
آپ بھی لیڈری ___ جتاتے ہیں
اب سیاست کی ایسی کی تیسی
بول ذیشان _______وقت آیا یے
اب مروت کی ایسی کی تیسی
کلام: ذیشان مہدی

Wednesday, 4 November 2015

پھر تمہارا آنا اور بھی بےتاب کر گیا .

Nasir Shigri
Urdu peotry


پھر دامن امید وہ پھولوں سے بھر گیا
جادو بھری نگاہ سے جادو سا کر گیا .
بس دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بدل گئی
کچھ سوچتے ہی سوچتے چہرہ اتر گیا.
بےتاب و بےقرار تھا پہلے ہی دل بہت.
پھر تمہارا آنا اور بھی بےتاب کر گیا .
اک بےخودی کا نام محبت ہے جاناں .
چاہت میں کس کو ہوش ہے کیا کیا گزر گیا.
کچھ بھی پتا نہیں ہے محبت میں ہمنشیں.
کب رات صبح بن گئی اور کب دن گزر گیا .


Wednesday, 13 May 2015

کون کہتا ہے کھوتا کھوتا ہوتا ہے ؟

Unknown
ایک دن گدھے نے شیر کو چیلنج کر دیا کہ تُو خود پر بڑا نازاں ہے بہت اکڑ ہے تجھ میں ہر طرف دندناتا پھرتا ہے ۔اپنی طاقت کا رعب جھاڑتا ہے ،اگر اتنا ہی خود پر ناز ہے تو چل آج مجھ سے مقابلہ کر لے دیکھتے ہیں کون زیادہ طاقت ور ہے اور اگر تُو نے میری بات نہ مانی تو سب میں تشہیر کر دوں گا کہ شیر مجھ سے ڈر گیا ۔شیر بیچارہ حیران و پریشان ایک شیطان کے جال میں پھنس گیا ،آخر مان ہی لی اس نے گدھے کی بات کہنے لگا چلو بھائی کیا مقابلہ کرنا چاہتے ہو کر لو ۔گدھا بولا چل میرے ساتھ ،کچھ آگے پہنچے تو ایک مضبوط اور بڑی سی دیوار نظر آئی ،گدھا کہنے لگا اگر تُو اس دیوار کو اپنی طاقت کے بل بوتے گرا دے تو تُو طاقت ور ورنہ میں گراؤں گا  شیر نے پوزیشن لی پیچھے ہٹا اور اس میں جتنی قوت تھی صرف کر دی اور دیوار کو جاکر ٹکر ماری دیوار ہلکی سی لہرائی مگر واپس پہلے جیسی ہو گئی ،گدھا کہنے لگا جا تُو بھی کیا یاد کرے گا ایک اور چانس دیا تجھے اس بار گرا دے ، شیر نے پھر ایڑی چوٹی کا زور لگا کر اپنی تمام تر قوت کے ساتھ دوڑتے ہوئے دیوار پر ٹکر ماری دیوار کی جڑیں ہل گئیں دیوار جھول گئی مگر گری نہیں ، گدھا پوری رازداری اور ہمدردی کے ساتھ شیر سے مخاطب ہوا اور کہنے لگا بس دیکھ لی اپنی طاقت بہت غرور ہے تجھے خود پر مگر اب تو مجھے دنیا کو بتانا پڑے گا کہ شیر میں کوئی طاقت واقت نہیں ہے ، اس نے تو سب پر اپنا حوّا بیٹھا رکھا ہے اس بات سے تیری سُبکی ہوگی تیری شان گھٹ جائیگی ایک آخری چانس اور دیتا ہوں ،شیر نے اپنی انا اپنی عزّت بچاتے کے لئے تیسرا چانس بھی لیا دیوار اس بار جڑوں سے اکھڑ گئی جھولتی ہوئی لہرائی اور پھر سیدھی ہو گئی ،گدھے کو سب بیوقوف کہتے ہیں مگر یہاں بڑا شاطر رہا کہنے لگا اب میری باری ہے دیوار کہ پاس گیا پیٹھ موڑ کر کھڑا ہوا شیر کے لئے بڑی حیرت کا مقام تھا کہ یہ کر کیا رہا ہے گدھے نے ڈھینچوں ڈھینچوں کی آوازیں نکالیں اور دیوار پر دولتّی جھاڑی دیوار کا تو کام شیر کر ہی چکا تھا دھڑام سے نیچے گر گئی گدھے کا نام ہو گیا میڈلزملے میڈیا نے اسے ہیرو بنایا بڑی بڑی آفرز آئیں لوگوں نے اپنے بزنس اور پارٹیز میں مدعو کیا بچوں نے آٹوگراف لئے لڑکیاں فدا ہوگئیں نوجوانوں نے اپنا آئیڈیل اسے بنایا عالمی دنیا میں واہ واہ ہوئی وزارت ملنے امارت ملنے صدارت ملنے کے چانس بنے گدھا لیڈرشپ کے لئے نامزد ہوگیا کون کہتا ہے کھوتا کھوتا ہوتا ہے 
.....................................
کچھ احباب سوچ رہے ہوں گے کہ میں نے اپنے ملک کے سیاستدانوں کی بات کی ہے ۔ایسا ہرگز نہیں ہے ہمیں اللہ پاک ہمارے اعمال کی سزا ہمارے حکمرانوں کی شکل میں دیتا ہے ۔ اور ایسا میں نہیں کہتا ایسا احادیث سے ثابت ہے آپ کی نمائندگی کرنے والا کوئی اور نہیں آپ خود ہیں ، جیسی روح ویسے فرشتے جیسے اعمال ویسے حکمران ،اسمیں ان بیچاروں کا کیا قصور ہے وہ تو اللہ کی جانب سے ہم آپ پر مقرر ہیں ، یاد رکھئے اگر آپ پاکستان میں فرشتے لیکر آئیں گے تو وہ بھی کرپٹ ہو جائیں گے کہ آپ کا تمام سسٹم کرپٹ ہے ،اسکی مثال یوں لیجئے کہ ٹوٹیاں بدلنے سے پانی کی رنگت یا ذائقہ تبدیل نہیں ہوتا بات تو اس اسٹاک کی ہے جو آپ کے ٹینک میں بھرا ہوا ہے ، اب آپ حسّاس ٹوٹیاں لگائیں یا پائپس بدلیں یا واش روم کچن اور کچن بیڈ روم اور بیڈ روم ڈرائنگ روم میں لے جائیں کچھ فرق نہیں پڑنے والا ان سب فضول کاموں سے ۔میرا اور آپ کا خمیر ٹھیک نہیں ہے جس سے میرا اور آپ کا اجتماعی پتلا تیار کیا گیا ہے اور جس میں بےحسی اور لاپرواہی کی روح داخل کی گئی ہے ،اور اسکا علاج اللہ کے پاس ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی ترتیب زندگی پر آجائیے سب ٹھیک ہو جائے گا جس کے لئے نہ آپ تیّار ہیں نہ میں

پڑھنے لکھنےسے "لوجکس" کلیر ہو جاتی ہیں.

Unknown


ایک دیہاتی لڑکا شہر سے پڑھ لکھ کر واپس دیہات گیا توگاؤں کے چوہدری صاحب نے سوال کیا کہ پتر پڑھنے لکھنے کا کیا فائدہ ہے؟
لڑکا: چوہدری صاحب پڑھنے لکھنےسے "لوجکس" کلیر ہو جاتی ہیں.
چوہدری صاحب : یہ "لوجکس" کیا ہوتی ہیں؟
لڑکا: "لوجکس" منطق کو کہتے ہیں
چوہدری صاحب : یہ منطق کیا ہوتی ہے؟
لڑکا: ميں سمجھاتا ہوں آپ کو۔۔۔۔ 
لڑکا: چوہدری صاحب آّپ کے گھر میں کتا ہے؟
چوہدری صاحب : ہاں ہے
لڑکا: اس کا مطلب آپ کا گھر بڑا ہوگا؟ (جس کی حفاظت کےلیے کتا رکھا ہوا ہے)
چوہدری صاحب : ہاں گھر توبڑا ہے..
لڑکا: پھر آپ کے ہاں نوکر چاکر بھی کا فی ہوں گے؟؟ (بڑےگھرکی دیکھ بھال کے لیے)
چوہدری صاحب : ہاں جی نوکربھی کافی ہیں..
لڑکا: اسکا مطلب آپ کی آمدنی بھی اچھی خاصی ہو گی؟؟؟ (نوکروں کی تنخواہ کی ادائیگی کے لیے)
چوہدری صاحب : ہاں جی آمدنی بھی اچھی خاصی ہے..
لڑکا: اس کا مطلب آپ کی ماں کی دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔ اورآپ کی ماں کی دعائیں آپ کے حق میں قبول بھی ہوئیں۔ اسکا مطلب یہ ہوا کہ آپ کی ماں ایک نیک عورت تھی۔۔۔۔۔!
چوہدری صاحب :بس اب میں سمجھ گیا کہ پڑھنے لکھنےسے "لوجکس" کیسے کلیر ہوتی ہیں۔۔۔۔۔
اگلے دن شیدا چوہدری صاحب کی ٹانگیں دباتے ہوئے:
شیدا : چوہدری صاحب یہ جو لڑکا شہر سے پڑھ لکھ کر گاؤں میں آیا ہے اس کو پڑھنے لکھنے کا کیا فائدہ ہوا؟؟
چوہدری صاحب : شیدے, پڑھنے لکھنے سے "لوجکس" کلیر ہو جاتی ہیں..
شیدا : چوہدری صاحب یہ "لوجکس" کیا ہوتی ہیں؟
چوہدری صاحب: "لوجکس" منطق کو کہتے ہیں..
شیدا : یہ منطق کیا ہوتی ہے؟
چوہدری صاحب: ميں سمجھاتا ہوں تم کو۔۔۔۔ 
چوہدری صاحب: تمہارے گھر میں کتا ہے؟
شیدا : نہیں چوہدری صاحب, میرےگھرمیں کتا نہیں ہے..
چوہدری صاحب: اس کا مطلب تمہاری ماں کوئی نیک عورت نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ اردو طنز و مزاح

Saturday, 9 May 2015

.ایک بوڑھي عورت کی ذھانت ..

Unknown

.ایک بوڑھي عورت کی ذھانت  .. Enjoy the full story!


رات کے وقت ایک چور گھر میں داخل ہوا۔ کمرےکا دروازہ کھولا تو مسہری پر ایک بوڑھی عورت سو رہی تھی۔ کھٹ پٹ سے اس کی آنکھ کھل گئی۔ چور نے گھبرا کر اس کی طرف دیکھا تو وہ لیٹے لیٹے بولی ’’بیٹا تم شکل سے کسی اچھے گھرانے کے لگتے ہو، یقیناً حالات سے مجبور ہو کر اس راستے پر لگ گئے ہو۔ چلو کوئی بات نہیں۔ الماری کےتیسرے خانے میں ایک تجوری ہے اس میں سارا مال ہے تم خاموشی سے وہ لے جانا۔ مگر پہلے میرے پاس آکر بیٹھو، میں نے ابھی ابھی ایک خواب دیکھا ہے وہ سن کر ذرا مجھے اس کی تعبیر تو بتا دو۔‘‘چور اس بوڑھی عورت کی رحمدلی اور شفقت سے بڑا متاثر ہوا اور خاموشی سے اس کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔ بڑھیا نے اپنا خواب سناناشروع کیا ’’بیٹا میں نے دیکھا کہ میں ایک صحرا میں گم ہوگئی ہوں ۔ ایسے میں ایک چیل میرے پاس آئی اور اس نے 3 دفعہ زور زور سےبولا ماجد ۔ ۔ ماجد ۔ ۔ ماجد!!! بس پھر خواب ختم ہوگیا اور میری آنکھ کھل گئی۔ ذرا بتاؤ تو اس کی کیا تعبیر ہوئی؟‘‘ چور سوچ میں پڑ گیا۔ اتنے میں برابر والے کمرے سے بڑھیا کا نوجوان بیٹا ماجد اپنا نام زور زور سے سن کر اٹھ گیا اور اندر آکر چور کی خوب ٹھکائی لگائی۔ بڑھیا بولی’’بس کرو اب یہ اپنے کیے کی سزا بھگت چکا۔ ‘‘ چور بولا ’’نہیں نہیں مجھے اور مارو تاکہ مجھے آئندہ یاد رہے کہ میں چور ہوں خوابوں کی تعبیر بتانے والا نہیں‘‘۔

Who are the Real Robbers??

Unknown
You will be amazed .. Read the full story!

During a robbery in Guangzhou, China, the bank robber shouted to everyone in the bank: "Don't move. The money belongs to the State. Your life belongs to you."

Everyone in the bank laid down quietly. This is called "Mind Changing Concept” Changing the conventional way of thinking.

When a lady lay on the table provocatively, the robber shouted at her: "Please be civilized! This is a robbery and not a rape!"

This is called "Being Professional” Focus only on what you are trained to do!

When the bank robbers returned home, the younger robber (MBA-trained) told the older robber (who has only completed Year 6 in primary school): "Big brother, let's count how much we got."

The older robber rebutted and said: "You are very stupid. There is so much money it will take us a long time to count. Tonight, the TV news will tell us how much we robbed from the bank!"

This is called "Experience.” Nowadays, experience is more important than paper qualifications!

After the robbers had left, the bank manager told the bank supervisor to call the police quickly. But the supervisor said to him: "Wait! Let us take out $10 million from the bank for ourselves and add it to the $70 million that we have previously embezzled from the bank”.

This is called "Swim with the tide.” Converting an unfavorable situation to your advantage!

The supervisor says: "It will be good if there is a robbery every month."

This is called "Killing Boredom.” Personal Happiness is more important than your job.

The next day, the TV news reported that $100 million was taken from the bank. The robbers counted and counted and counted, but they could only count $20 million. The robbers were very angry and complained: "We risked our lives and only took $20 million. The bank manager took $80 million with a snap of his fingers. It looks like it is better to be educated than to be a thief!"

This is called "Knowledge is worth as much as gold!"

The bank manager was smiling and happy because his losses in the share market are now covered by this robbery.

This is called "Seizing the opportunity.” Daring to take risks!

So who are the real robbers here?